تلاش کریں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
مدرسہ دینیہ وصیت العلوم پرنامبٹ تمل ناڈو
دار الافتاء والتحقیق الشرعی
DARUL IFTA (DEPARTMENT OF ISLAMIC JURISPRUDENCE)
Madrasa Diniya Wasiyyatul Uloom • Pernambut, Tamil Nadu - India
فتویٰ نمبر: A-000007
تاریخ: 06 October 2026 | 23 ربیع الثاني 1448ھ
موضوع: خرید و فروخت
جواب دہندہ: Super Admin
س

الاستفتاء (سوال)

کیا کوئی آدمی گولڈ پلیٹ والی گھڑی پہن سکتا ہے؟
ج

الجواب وبالله التوفيق

 

اگر کوئی گھڑی ایسے مادے سے بنی ہوئی ہو جس کا مردوں کے لیے پہننا شرعاً جائز ہو، تو اس پر سونے کا پانی یعنی گولڈ پلیٹنگ (Gold-plating) کردی جائے تب بھی مرد کے لیے اسے پہننا جائز رہے گا، کیونکہ محض سونے کا ملمع ہونے کی وجہ سے اس پر سونے کا حکم جاری نہیں ہوگا۔

فتاویٰ رضویہ میں سوال کیا گیا:

وہ اشیاء جن پر سونے چاندی کا پانی چڑھا ہو جسے گلٹ کہتے ہیں مرد استعمال کرسکتا ہے یانہیں؟

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان عليه الرحمة نے جواب ارشاد فرمایا:

کرسکتا ہے۔ سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں۔ ہاں اگر وہ شے فی نفسہٖ ممنوع ہو تو دوسری بات ہے جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھی۔

یعنی:
مرد ایسی چیزیں استعمال کرسکتا ہے۔ سونے یا چاندی کا ملمع ہونا ممانعت کی وجہ نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ہی ممنوع ہو تو حکم الگ ہوگا، مثلاً سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھی۔

(فتاویٰ رضویہ، جلد 22، ص 129، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاویٰ فیض الرسول میں ہے:

حکم اصل شے کا ہوتا ہے نہ کہ ملمع کا، اسی لئے فقہائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اگر تانبا پیتل وغیرہ دھاتوں کے برتنوں پر سونا چاندی کا ملمع کردیا جائے تو ان برتنوں کا استعمال جائز ہے، در مختار کتاب الحظر و الاباحۃ میں ہے:

اما المطلی فلا بأس بہ بالاجماع لان الطلاء مستھلک لا یخلص فلا عبرۃ للونہ عینی وغیرہ

ترجمہ:
اصل حکم اس چیز کا ہوتا ہے جس پر ملمع کیا گیا ہو، نہ کہ ملمع کا۔ اسی لیے فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کے برتنوں پر سونے یا چاندی کا ملمع کردیا جائے تو ان برتنوں کا استعمال جائز ہے۔

در مختار، کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے:

اما المطلی فلا بأس بہ بالاجماع لان الطلاء مستھلک لا یخلص فلا عبرۃ للونہ عینی وغیرہ

یعنی: ملمع شدہ چیز کے استعمال میں بالاجماع کوئی حرج نہیں، کیونکہ ملمع اس میں مستہلک ہوجاتا ہے اور الگ نہیں رہتا، لہٰذا اس کے رنگ کا اعتبار نہیں۔

اور رد المحتار، جلد 5، ص 219 میں ہے:

اما التمویۃ الذی لا یخلص فلابأس بہ بالاجماع فلانہ مستھلک فلا عبرۃ ببقائہ لونا اھ۔

یعنی: ایسا سونے کا ملمع جو الگ نہ کیا جاسکے، اس کے استعمال میں بالاجماع کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ اصل چیز میں مستہلک ہوچکا ہے، لہٰذا صرف اس کے رنگ کے باقی رہنے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

(فتاویٰ فیض الرسول، جلد 2، ص 566، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)

حوالہ جات و مراجع

Fatawa Razawiyah
Fatawa Razawiyah, Vol. 22, p. 129, Publ. Raza Foundation, Lahore
والله تبارك وتعالى أعلم بالصواب
دار الافتاء - تصدیق شدہ فتویٰ
MADRASA DINIYA WASIYYATUL ULOOM
المفتی / تصدیق کنندہ:
Super Admin
مدرسہ دینیہ وصیت العلوم، پرنامبٹ
Loading...

فتویٰ کی تصویر تیار ہو رہی ہے...

براہ کرم چند لمحے انتظار فرمائیں